الیاس رئیس، پنجگور 

پنجگور کی یونین کونسل بونستان کے بنیادی مرکز صحت بنیادی سہولیات سے محروم ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔۔

تیرہ ہزار کی آبادی والی یونین کونسل بونستان کے لیے صرف ایک بنیادی مرکز صحت دستیاب ہے۔ دو سال پہلے بی ایچ یو کو آر ایچ سی کا درجہ دیا گیا ہے اور اسٹاف کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔

بی ایچ یو کے ڈاکٹر حفیظ نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں روزانہ درجنوں مریض آتے ہیں لیکن اسپتال کو سہولیات سمیت کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

“کچھ مریضوں کو ڈرپ وغیرہ لگانے کی ضرورت پڑھتی ہے  لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی  کمرہ نہیں جہاں ہم ایسے مریضوں کو بیڈ فراہم کر سکیں۔”

  انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارے پاس ایک چھوٹا سا ہال ہے  جہاں اسٹاف بھی بیٹھتا ہے اسی میں دو بیڈ رکھے ہیں،اکثر مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں ہمیں مجبوراً دو مریضوں ایک بیڈ الاٹ کرنا پڑتا ہے ۔”

ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ “کئی سالوں پہلے اسپتال کے لیے دو نئے کمرے بنائیں گئے تھے لیکن ابھی تک ان کو مکمل نہیں کیا گیا۔

 ایک مریضہ نے ادویات کی عدم دستیابی کا گلہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہم میلوں دور سے آتے ہیں لیکن یہاں نہ علاج معالجے کی اچھی سہولتیں ہیں اور نہ ہی ادویات فراہم کی جاتیں ہیں۔”

اس بارے جب پاک وائسز نے میڈیکل ٹیکنیشن وقار احمد سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ “ادوایات کا جو کوٹہ  80 کی دہائی میں تھا  وہی کوٹہ سسٹم ابھی تک چل رہا ہے ۔ ہم نے کئ بار ادوایات کا کوٹہ بڑھانے کی بات کی ہے لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔”

بونستان یونین کونسل چیئرمین محمد حسن نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارے پاس تو کوئی فنڈ نہیں کہ ہم اسپتال کے لیے کچھ کرسکیں البتہ ہم نے صوبائی حکام کو کئی بار آگاہ کیا ہے کہ اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم ازکم ان دونوں کمروں کی چھتیں ہی مکمل کروا دیں۔”

LEAVE A REPLY