انیس سو اٹھاون میں وزیرِ اعظم فیروز خان نون نے آغا خان فیملی کے مالی تعاون سے گوادر کو سلطنتِ اومان سے خریدنے کے سمجھوتے کو آخری شکل دی تو ان کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کی تعبیر دیکھنے سے پہلے ہی سابق ہوجائیں گے اور گوادر کی چابی پاکستان کے پہلے فوجی صدر جنرل محمد ایوب خان وصول کریں گے۔

 جب انیس سو ترانوے میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے گوادر کو ڈیپ سی پورٹ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ چودہ برس بعد دو ہزار سات میں جنرل پرویز مشرف گوادر پورٹ کا افتتاح کررہے ہوں گے۔اور جب پرویز مشرف فیتہ کاٹ رہے تھے تو انہوں نے سوچا تک نہ ہوگا کہ آٹھ برس بعد نواز شریف گوادر پورٹ کا انتظام و انصرام سنگاپور پورٹ اتھارٹی سے لے کر چین کی اوورسیز ہولڈنگ کمپنی کو چالیس سال کے لئے دے دیں گے۔

wusat

سن اٹھاون سے اب تک گوادر کی ترقی کا جو بھی فیتہ کٹا وہ وفاق کی سطح پر کاٹا گیا ۔ میزبان بلوچستان سے بس یہ کہا گیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں لہذا وہاں تشریف رکھیں۔

گوا کا مطلب ہے ہوا اور در کا مطلب ہے دروازہ ۔یعنی گوادر ہوا کا دروازہ کہ جس کی قسمت بدلنے کی ہوا ہر چند برس بعد چلتی ہے ، تھمتی ہے ، پھر چل پڑتی ہے۔اگر آپ دو ہزار تین میں جنم لینے والی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ماسٹر پلان دیکھیں تو پچھلے بارہ برس کے دوران نہ صرف بجلی ، گیس اور پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل ہوجانا چاہئے تھا بلکہ سڑکوں کا جال بھی بچھ جانا چاہئے تھا۔شہر کی ایک لاکھ آبادی کو متبادل رہائش ، مچھیروں کو نئی اور بہتر جیٹی ، بچوں کو اچھے اسکول ، صحت و میٹرنٹی کی جدید سہولتیں اور مقامی لڑکوں کو مستقبل کے گوادر میں ہنرمندی کے ساتھ جینے کے روزگاری مواقع دستیاب ہو جانے چاہئے تھے۔

مگر ماسٹر پلان کے اعلان کے بارہ برس بعد بھی قدیم کورڈ بازار کے اوپر تنی میلی چادریں اور خستہ ہوچکیں۔تاریخی اسماعیلی محلے میں بوڑھی خواتین ویسے ہی گلی کے تھڑے پر بیٹھی پرانا زمانہ یاد کررہی ہیں۔تبدیلی آئی ہے تو یہ کہ جس ساحلی سڑک پے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دفتر ہے اس پر شمسی توانائی سے روشن ہونے والے بلب لگ گئے ۔کوہِ باطل پر ایک فائیو سٹار ہوٹل بنا اور کھڑے کھڑے سو گیا۔ اس ہوٹل کے پچھواڑے میں سنگھار ہاؤسنگ سوسائٹی دفن ہے جس میں بیس برس پہلے پاکستان کے ہر اہم آدمی نے کم ازکم ایک پلاٹ اس امید پر خریدا تھا کہ جب گوادر دوبئی کو معاشی طور پر معزول کردے گا تو ہم آرام کرسی پر پسر کے اس بلندی سے کھلے سمندر کا نیلا نظارہ کریں گے۔جانے آج اقبال زندہ ہوتے اور کوہِ باطل پر تشریف لاتے تو کیا سوچ کر کہتے کہ ،

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

کوہِ باطل سے نیچے دیکھیں تو گوادر پورٹ کی چار کرینیں خالی گودیاں گھور رہی ہیں۔اور بائیں جانب کے ساحل پر بڑی بڑی چوبی کشتیاں اسی انداز میں تعمیر ہو رہی ہیں جیسے پرتگیزیوں کے زمانے میں ہوتی ہوں گی۔

شہر میں داخلے سے ذرا پہلے آپ کو گوادر جم خانہ کا نیلا بورڈ اور انڈسٹریل پارک ، اکنامک فری زون ، وغیرہ وغیرہ کے عظیم الشان دروازے تو نظر آتے ہیں مگر ان دروازوں سے آج بھی ہوا ہی آرپار ہے ۔یعنی ہر دروازہ گوادر ہے۔

ماسٹرپلان کے مطابق ایک بین الاقوامی ایرپورٹ کی تعمیر بھی اب تک شروع ہوجانی چاہئے تھی۔پر اچھا ہی ہوا کہ رکا ہوا ہے ۔اس ایرپورٹ پر آتا کیا اور جاتا کیا ؟ غنیمت ہے ایرپورٹ کی چھ ہزار ایکڑ زمین محفوظ ہے۔ورنہ تو اسی گوادر کو سونے جیسی زمین کہہ کر کراچی اور لاہور کے اسٹیٹ ایجنٹوں نے ہزاروں سادہ لوحوں کو برسوں پہلے ساحل سمیت دو دو بار بیچ کر اربوں روپے بنا ئے اور چمپت ہو لئے۔

ہاں یاد آیا ! نیس پاک نے بڑے ارمانوں سے اکورہ کور ڈیم اس دعوے کے ساتھ بنایا تھا کہ اگلے پچاس برس تک گوادر کو پینے کا پانی ملتا رہے گا۔مگر نیس پاک یہ بات شائد اس چکنی مٹی کے کان میں کہنا بھول گئی جس نے صرف پندرہ برس میں ہی اس ڈیم کی جھیل پر گھٹنوں گھٹنوں قبضہ کرلیا اور آج جھیل میں جو بھی پانی ہے وہ بس جھیل کی پیاس بجھانے کے لئے کافی ہو تو ہو۔

پھر بھی خوش فہمیاں اپنی جگہ جوان ہیں ۔ صرف ساڑھے تین ماہ پہلے چھ فروری کو اسلام آباد میں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی  کے روبرو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سربراہ شاہد تارڑ نے یقین دلایا کہ خضدار رتو ڈیرو موٹروے سیکشن مکمل ہوتے ہی مئی کے مہینے سے گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہوجائے گی۔آج مئی کی اٹھائیس تاریخ ہے۔ زرا کوئی کھڑکی سے باہر دیکھ کر مجھے بتائے کہ خضدار رتو ڈیرو موٹر وے پر کتنا ٹریفک جام ہے اور گوادر پورٹ پر کتنے جہاز برتھ ملنے کے انتظار میں کھلے سمندر میں کھڑے کھڑے اونگھ رہے ہیں۔۔۔۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میں کیا الٹی سیدھی ہانک رہا ہوں ۔ابھی تو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کی ڈرائنگز بھی نہیں بنیں ، ابھی تو گوادر پورٹ میں صرف تین برتھیں ہیں جن پر پچاس ہزار ٹن کا جہاز ہی لنگرانداز ہو سکتا ہے۔ابھی ستر برتھیں اور بنیں گی ، اکنامک فری زون بنے گا ، سپر ٹینکرز کے لئے  آئیل ٹرمنل بنے گا ، ریفائنریاں بنیں گی ، ڈوئیل کیرج ویز بنیں گے ، گودام اور سرد خانے تعمیر ہوں گے ۔تب کہیں جا کے پارٹی شروع ہوگی۔

اچھا ایک واقعہ سن لیجئے۔

پارٹیشن کے وقت ایک صاحب دلی سے ہجرت کرکے کراچی آگئے۔انیس سو چونسٹھ میں انہیں دلی جانے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ اس شیروانی کا پتہ کرلوں جو ہجرت سے پہلے محلے کے درزی کو دی تھی۔صاحب درزی کے پاس پہنچے اور پوچھا حضور میں نے جولائی انیس سو سینتالیس  میں ایک شیروانی سلنے دی تھی کیا آپ کو یاد ہے۔بڑے میاں نے کہا بالکل یاد ہے جناب۔صاحب نے کہا تو دے دیجئے تاکہ پہن کے دیکھ لوں۔بڑے میاں اندر گئے اور دس منٹ بعد باہر آ کر شیروانی کا کپڑا صاحب کو تھما دیا۔ہکا بکا صاحب نے پوچھا حضور کیا اب تک نہیں سلی ۔بڑے میاں نے چشمہ نیچے کرتے ہوئے کہا

” میاں اگر اتنی ہی جلدی ہے تو کسی اور سے سلوا لو”

LEAVE A REPLY