ذیشان علی 

پاکستان میں رقبے اور پسماندگی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں  سابق جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت  میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد حالات مزید بگڑ گئے  اور شورش میں حکومت کے خلاف نوجوانوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے بھی آواز اٹھائی۔

ماضی کی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے وفاقی سطح پر متعدد اقدامات اٹھائے گئے اور اس کے ساتھ صوبہ پنجاب نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو پنجاب میں داخلہ دینے کا اہتمام کیا کیونکہ صوبے میں شورش کے دوران ہلاک ہونے  والے افراد میں ایک بڑی تعداد پنجابیوں کی بھی تھی جنھیں وہاں کے لوگ آباد کار کہتے ہیں۔ اس  کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر چھوٹے صوبوں کی طرح بلوچستان میں تاثر پایا جاتا ہے کہ پنجاب وسائل پر قابض ہے۔

حکومت پنجاب نے بلوچستان کے„زخموں پر مرہم‘ رکھنے کے لیے چار ہزار کے قریب بلوچ طالب علموں کو صوبے کے مختلف تعلیمی داروں میں مفت تعلیم دینے اور ان کے لیے میرٹ میں استثنیٰ دیا ہے۔

ان میں چند سو بلوچ نوجوانوں کو اپنے لاہور میں بلایا  ہے تاکہ وہ ملک کے ترقی یافتہ ترین چند شہروں میں سے ایک میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں اور کسی حد تک بلوچ عوام کو یہ پیغام جائے کہ پنجاب ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

لیکن ایسا بلوچستان میں کیوں نہیں ممکن ہو سکا تو اس کا سادہ جواب ہے کہ صوبے میں تعلیمی صورتحال ابتری کا شکار ہے جس میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 66 فیصد بچے سکولوں میں نہیں جا پاتے ہیں اور جو جاتے ہیں ان کو بھی معیاری تعلیم مسیر نہیں ہے۔

مختلف اندازوں کے مطابق  صوبے میں موجود تیرہ ہزار سکولوں میں سے سات ہزار  ایسے سکول ہیں جو ایک کمرے پر مشتمل ہیں اور انھیں ایک ہی استاد میسر ہے جبکہ ہر برس پورے صوبے سے گریجوئیشن کرنے والے  تقریباً 25 ہزار طالب علموں  سے دو ہزار کو نوکری دستیاب ہوتی ہے۔

حکومت بلوچستان کی دو ہزار پندرہ کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمۂ تعلیم نے 2لاکھ 34ہزار بچوں کا سکولوں میں جعلی یا گھوسٹ داخلہ ظاہر کیا تاکہ صوبے میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کو ظاہر کیا جا سکے۔

صوبے میں تعلیم کی مخدوش صورتحال کا اندازہ  سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک بڑی تعداد تعلیمی اداروں سے باہر ہے تو وہیں تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کا فقدان نظر آتا ہے۔

اس بات کی وضاحت بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے جامعہ پنجاب یا معروف پنجاب یونیورسٹی میں حکومتِ پنجاب کی سکیم کے تحت داخلہ لینے والے رفیق کھوسہ کی باتوں سے ہو جاتی ہے۔

رفیق کھوسہ نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب خصوصی کوٹے پر یونیورسٹی میں آئے تو پہلے برس ہی ڈراپ ہو گئے کیونکہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے اس کی وجہ بتاتے  ہوئے کہا ہے کہ ان جیسے لڑکے اپنے علاقے میں پہلی پوزیشنز لینے والوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن جب لاہور جیسے بڑے شہر میں آتے ہیں تو وہ میرٹ پر آخری نمبروں پر ہوتے ہیں۔

اسی طرح کا اظہار صوبے کے قدرتی دولت سے مالا مال علاقے سوئی سے تعلق رکھنے والے  علم دین مندرانی  نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کیا جب انہوں نے بتایا کہ وہ لاہور آ کر حیران رہ گیے کہ یہاں تو جامعہ پنجاب کے اردگرد پانچ سے چھ یونیورسٹیاں ہیں اور ادھر پورے بلوچستان صوبہ میں صرف چھ یونیودسٹیاں ہیں

LEAVE A REPLY