پاک وائسز، گوادر 
.Courtesy: Getty Image
بلوچستان کے مرکزی اور جنوبی علاقوں میں کالعدم عسکریت پسندوں کی دھمکیوں اور حملوں کے بعد 17 دنوں سے اخبارات کی ترسیل مکمل طور پر بند ہیں۔
عسکریت پسندوں کی جانب سے اخبارات کے بائیکاٹ کی ڈیڈلائن 24 اکتوبر رکھی گئی تھی جس کے بعد باقاعدہ طور پر پریس کلبوں پر حملوں اور اخبارات کے بنڈل کو نذرآتش کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔
 اس دوران بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اخبارات کا بلیک آؤٹ کا سماں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
24 اکتوبر کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب کے پریس کلب کو دستی بم سے نشانہ بنایا گیا تھا جو پریس کلب کے صحن کی دیوار کے قریب گرا جب صحافیوں کی بڑی تعداد پریس کلب کی عمارت میں ہی موجود تھی۔ تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
26اکتوبر کو جمعرات کے روزتربت میں پاک نیوز ایجنسی کے نام سے قائم اخبارات فروخت کرنے والی  ایک دکان پر  دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ اس دستی بم حملے میں چھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

26اکتوبر کو ہی بلوچستان کے علاقہ آواران میں مسلح افراد کی جانب سے اخبارات لے جانے والی ایک گاڑی پر حملہ کرکے اس کے ٹائربرسٹ کردیئے گئےاور اخبارات کے بنڈل اتارکر انھیں نذر آتش کردیا گیا۔مسلح افراد کی جانب سے گاڑی کے ڈرائیور کو آئندہ اخبارات لے جانے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
30 اکتوبر کو بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے مقامی اخبار کے اہلکار پر تشدد کرکے اخبار کی کاپیاں ضبط کر کے نذرآتش کردیں۔
یکم نومبر کو کلعدم تنظیموں کی جانب سے ضلع گوادر، حب چوکی، لسبیلہ ،ضلع پنجگور اور نوشکی سمیت متعدد علاقوں کے صحافیوں اور پریس کلبوں کو ایک مرتبہ پھر وارننگ جاری کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی تھی کہ مذکورہ علاقوں میں صحافیوں نے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر ترک نہیں کی ہیں اور وہ بائیکاٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
 اس وارننگ کے بعد گوادر پنجگور، حب چوکی، لسبیلہ سمیت متعدد پریس کلبوں کی جانب سے صحافتی سرگرمیاں ترک کرنے اور پریس کلبوں کی تالہ بندی کے حوالے سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کئے گئے ہیں۔
 بلوچستان کے متعدد علاقوں میں اخبارات کی ترسیل بند ہے اور بلیک آؤٹ کا سماں ہے جس کے باعث  لوگ حالات حاضرہ سے محروم ہیں۔
گوادر میں ایک نیوز ایجنسی کی دوکان جہاں اخبارات فروخت کیے جاتے ہیں۔
بلوچستان کی نامور صحافی اور ڈیلی انتخاب کے ایڈیٹر نرگس بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “بلوچستان کے صحافی دو طرفہ دباؤ کا شکار ہیں، ایک طرف انہیں سرکاری اداروں کی طرف سے دباؤ ہوتا ہے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کی جانب سے ہر ایک اپنی مرضی ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “حکومت کی جانب سے انھیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا بلکہ اس صورت حال میں حکومت نامی کوئی چیز نظرنہیں آرہی ہے۔”
انہوں نے صحافتی تنظیموں سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ  “ملک کی بڑی صحافتی تنظیمیں بھی بلوچ صحافیوں کو نظرانداز کر رہی ہیں اور کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ “ہم کب تک اخبارات چھاپ کر ضائع کرتے رہے گے، ہمارے محدود وسائل “ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو نوبت اخبارات کی بندش تک بھی آسکتی ہے۔
گوادر کے سنیئر صحافی اور پریس کلب گوادر کے صدر بہرام بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان بھر کی طرح گوادر کے صحافی بھی مشکلات کا شکار ہیں۔”گوادر میں بھی ایک خوف کا عالم اوراظہار رائے پر غیراعلانیہ پابندی لگی ہوئی ہے۔
 اس وقت گوادر سمیت مکران بھر میں صحافتی سرگرمیاں معطل اور پریس کلبوں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور پریس کلبز سیکیورٹی فورسز کے حصار میں ہیں۔

LEAVE A REPLY