علی ظیف

آئرش فلسفی ایڈمنڈ برک نے کہا تھا:’’ماضی سے سبق نہ سیکھنے والی قومیں اسے دوبارہ دہرانے کی سزاوار قرار پاتی ہیں۔‘‘ غالباً وہ درست تھے۔ اس کی بہترین مثال پاکستان کی ریاست ہے جو ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کے باعث بارہا ایک سی غلطیاں دہراتی رہی ہے اور ہر بار اس نے ان غلطیوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ مثال کے طور پر بلوچستان کے حالات میں بہتری کے دعوؤں کے باوجود اب بھی صوبے کے حوالے سے ریاست کی پالیسی میں کوئی بنیادی نوعیت کی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اب بھی غیر ریاستی کرداروں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

عباس ناصر کے مؤقف سے اختلاف ممکن ہے اور ہو سکتا ہے، وہ غلط ہوں لیکن اس وقت کیا کیا جائے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں کچھ ایسی قوتیں نمایاں ہوئی ہیں جو بلوچ عوام کی نمائندگی نہیں کرتیں جن میں نمایاں ترین جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید ہیں جو لاہور میں اپنے گھر میں نظربندی سے چند روز قبل تک بلوچستان کی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے اور اس حوالے سے بلوچستان میں ان کا ساتھ دینے کے لیے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کا انتخاب کیا گیا تھا جنہیں علیحدگی پسند اور بھارت نواز رہنما براہمداغ بگٹی کے متبادل کے طور پر بلوچستان کے سیاسی منظرنامے میں متحرک کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جو تقریباً ایک دہائی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک کامیاب نہیں ہو پائی۔

سکیورٹی امور کے ماہر اور کتاب ’’پاکستان: ٹیررازم گراؤنڈ زیرو‘‘ کے معاون مصنف ڈاکٹر خرم اقبال نے’’پاک وائسز‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:’’دہشت کا خاتمہ کبھی دہشت سے نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی سکیورٹی کی ذمہ داری غیر ریاستی کرداروں کو سونپنا ایک سراسر غلط پالیسی ہے۔‘‘ لیکن وہ اس کے ساتھ ہی یہ نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ریاست صرف طاقت کے استعمال پر ہی انحصار نہیں کر رہی بلکہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے مراعات کے علاوہ عام معافی کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کے باعث سینکڑوں علیحدگی پسند ہتھیار ڈال کر قو می دھارے میں واپس آ چکے ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنماء اور سینیٹر عثمان کاکڑ کہتے ہیں:’’جماعت الدعوۃ صرف ایک مہرہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں اب بھی خفیہ ادارے ہی سیاست کر رہے ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیاں بنا رہے ہیں اور توڑ رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے اقدامات کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

یہ تو بلوچستان کے حالات کا ایک رُخ ہیں جن میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بظاہر بہتری دکھائی دیتی ہے لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے یا زمینی حقائق مختلف ہیں؟ آواران پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی رمضان بلوچ نے ’پاک وائسز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:’’اگر میں اپنے شہر کی بات کروں تو آواران میں حالات درست نہیں ہیں۔ شہر میں اب بھی فوج اور ایف سی کے دستے گشت کرتے ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی جانب سے اگرچہ کارروائیاں کی جاتی ہیں لیکن ان کی شدت میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔‘‘

خضدار سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ایوب بلوچ کہتے ہیں:’’صوبے کے حالات پہلے بہت زیادہ خراب تھے لیکن اب کافی بہتر ہو چکے ہیں۔” انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یقین سے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ ریاست نے اپنی سابقہ پالیسی پر عملدرآمد ترک کر دیا ہے یا نہیں۔

سی پیک منصوبہ شروع ہونے کے بعد گوادر میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تقریباً روز ہی اخبارات میں گوادر کی مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کا گوادر کے حوالے سے ایک دیرینہ مطالبہ یہ بھی رہا ہے کہ غیر بلوچوں کو گوادر میں آباد نہ کیا جائے یا ایسا نہ ہو کہ بلوچ اپنی ہی سرزمین پر ہی اجنبی بن جائیں لیکن ان کے ان تحفظات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سینئر رہنما اور گوادر سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے رُکن سید عیسیٰ نوری نے ’پاک وائسز‘سے بات کرتے ہوئے کہا:’’گوادر کے لوگ ڈیموگرافک تبدیلیوں کے حوالے سے خوف زدہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہ کچھ ہی ہو گا جو لیاری کے بلوچوں کے ساتھ ہوا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ تعلیم نہ ہونے کے باعث وہ ڈرتے ہیں کہ وہ ترقی کی دوڑ میں دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔‘‘

بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کے متوازی مذہبی عسکریت پسندی بھی ایک ایسا مظہر ہے جسے زیرِبحث لانے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مبصرین اور تجزیہ کار یہ تصور کرتے ہیں کہ فاٹا کے بعد اب بلوچستان عالمی یا پھرعلاقائی جہاد کا نیا مرکز قرار پا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خرم اقبال اس تاثر کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں:’’اگرچہ بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی شدت کم ہوئی ہے لیکن مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ داعش میں سب سے زیادہ بھرتیاں بلوچستان سے ہی ہوئی ہیں ۔‘‘

سکیورٹی کے حوالے سے بلوچستان کے اس پیچیدہ منظرنامے میں ذکری فرقے کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ مسلمانوں کا ایک ذیلی فرقہ ہے جس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد جنوبی بلوچستان میں مکران کے علاوہ آواران، خضدار اورگوادر وغیرہ میں آباد ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند تحریک میں ذکریوں کی فعال شمولیت نے انہیں قومی منظرنامے پر نمایاں کر دیا جس کے باعث ان کے مذہبی عسکریت پسندی کے نشانہ بننے کے خدشات موجود رہے ہیں اور ایسی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں جب خاص طور پر ذکری فرقے کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔

سید عیسیٰ نوری کہتے ہیں:’’ذکریوں کو وہ عناصر ہی نشانہ بناتے رہے ہیں جو پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور میں چوں کہ خود اس فرقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس لیے میرے خیال میں یہ تاثر غلط ہے کہ ذکریوں کو اس لیے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیوں کہ وہ علیحدگی پسند تحریک میں فعال ہیں۔ ‘‘

اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ سی پیک منصوبہ شروع ہونے کے بعد بہت سی عالمی ایجنسیاں بھی بلوچستان میں فعال ہو سکتی ہیں یا ہو چکی ہیں۔ کچھ تجزیہ کار ’’را‘‘ کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیتے ہیں جن کے بارے میں ریاست یہ پختہ یقین رکھتی ہے کہ وہ بلوچستان میں خفیہ مہم پر آئے ہوئے تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کچھ قوتیں بلوچستان میں حالات درست ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں جس کے باعث ریاست کے لیے اب ماضی کی غلطیاں دہرانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی اور اگر ریاست اب بھی اپنی پرانی پالیسیوں پر ہی عمل پیرا رہتی ہے تو اس کے منفی نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

1 COMMENT

  1. علی بھائی اپ کی تحقیقاتی سٹوریز کافی عمدہ ہوتی ہیں جن میں ان پہلووں کو اجاگرکیاجاتا ہے جو عمومی طورپرمیڈیاپہ نہیں آرہا،،بہت عمدہ

LEAVE A REPLY