پاک وائسز، رپورٹر

بلوچستان میں کلعدم عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اخبارات کی ترسیل دو دن سے بند ہے۔ اخبارات پرنٹ تو ہو رہے ہیں لیکن صوبے بھر میں ترسیل نہ ہونے کے باعث عوام کی معلومات تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
ادھر بدھ کی رات کو حب پریس کلب پر دستی بم کے حملے کے بعد تربت میں ایک اخبار فروش کی دوکان پر آج حملہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاک نیوز ایجنسی کے دفتر کو دستی بم سے نشانہ بنایا گیا ہے جب ایجنسی نے کلعدم تنظیم کے بائیکاٹ پر عمل نہ کرتے ہوئے اخبار کی سیل جاری رکھی۔

مکران کی ساحلی پٹی سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ کی خراب صورت حال کے باعث مقامی اخبارات ہی علاقائی خبروں تک رسائی  کا واحد زریعہ ہیں۔ یہ اخبارات کراچی اور کوئٹہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کو بھیجے جاتے ہیں جن میں انتخاب،ایگل، جسارت،انجام، رہبر، بولان، جنگ اور ڈان وغیرہ شامل ہیں۔
عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے میڈیا کو موصول ہونے والے پمفلٹ میں کہا گیا تھا کہ میڈیا ریاستی بیانیہ کے ساتھ عسکریت پسندوں کی بات بھی سنے اور شائع کرے۔ انہوں نے میڈیا کوریج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  “بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن پر میڈیا کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے اور گزشتہ پانچ مہینوں سے ان کے موقف کو بھی پیش نہیں کیا جارہا ہے۔”
اخبارات کی ترسیل بند کرنے کے لیے 24اکتوبر کا الٹی میٹم دیا گیا تھا جس کے بعد کوئٹہ، گوادر سمیت بلوچستان کے بیشتر شہروں میں اخبارات کی ترسیل روک دی گئی ہے اور ہاکر ایسوسی ایشن نے اخبارات لے جانے سے انکار کردیا ہے۔
بلوچستان کے علاقے حب کی معروف صحافی اور ڈیلی انتخاب کی ایڈیٹر نرگس بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس وقت مشکل صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ عسکریت پسند تنظیموں کی دھمکیوں کے بعد اخبارات پرنٹ تو رہے ہیں لیکن تقسیم میں مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ ہاکر اور ٹرانسپورٹرز دھمکیوں کے بعد خوفزدہ ہو گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “حب پریس کلب پر حملے کے بعد مزید خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ “صحافیوں کو کلعدم تنظیموں کی جانب سے وارننگ لیٹر اور پمفلٹ کے علاوہ دھمکی آمیز ای میل پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں۔”
نرگس بلوچ نے مزید کہا کہ “ہم کسی بھی تنظیم کی میڈیا میں کوریج کے بائیکاٹ کے حق میں نہیں ہیں لیکن میڈیا پر سرکاری دباؤ ہے۔اس کے باوجود ہم نے سب کو کوریج دی ہے۔”
 پریس کلب کے صدر اور ڈیلی بولان کے چیف ایڈیٹر الیاس کھمبوہ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “حب پریس کلب کے عقبی دروازےپر جب دستی بم حملہ کیا گیا تو اس وقت صحافیوں کی بڑی تعداد پریس کلب میں موجود تھی۔”
انہوں نے حملے کے بعد بھی پریس کلب انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔
صحافی خود مظلوم ہیں، ہم پہلے سے ہی تشدد کا شکار رہے ہیں اور کئی صحافی اپنی جانیں بھی گنوا” چکے ہیں۔”
پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے گوادر پریس کلب کے صدر بہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند تنظیموں کی دھمکیوں کے بعد بیشتر اخبارات کے ہیڈ آفسز کی جانب سے اخبارات کی ترسیل روک دی گئی ہے اور گوادر میں حب واقعہ کے بعد ہاکروں نے بھی اخبارات کی تقسیم بند کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “گوادر کے علاوہ  مکران کے دیگر علاقوں پسنی ، تربت اور پنجگور میں بھی اخبارات کی ترسیل بند ہوگئی ہے۔”
بہرام کہتے ہیں کہ ” بلوچستان کے دیگر شہروں کی طرح گوادر کے صحافیوں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہےاور گوادر پریس کلب نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “بلوچستان کے صحافیوں نے ہر دور میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی ہے، کوریج نہ دینے کا معاملہ اخبارات مالکان اور میڈیا ہاؤسز کا ہے لیکن اس معاملے میں پریس کلبوں،صحافیوں اور اخبارات بیچنے والوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔”
اخبارات کے بندش کے باعث عوام کوبھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔گوادر کے رہائشی شریف بلوچ نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “دو دن سے اخبارات کی عدم ترسیل کے باعث ہم  حالات حاضرہ سے بے خبر ہیں۔”
“اخبارات کی بندش کے باعث ایسا لگتا ہے کہ ہمارا رابطہ دیگر علاقوں سے کٹ چکا ہے۔”
ایڈیٹنگ: حسن خان

LEAVE A REPLY