مائرہ بلوچ 

پاک وائسز، پسنی

ہاتھ سے کی گئی بلوچی کشیدہ کاری کی ایک جھلک۔ فوٹو کریڈیٹ:  مائرہ بلوچ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں صدیوں سے کپڑوں پر دیدہ زیب کشیدہ کاری کا فن چلا آ رہا ہے اور یہ کام گھریلو سطح پر خواتین سرانجام دیتی ہیں۔

کشیدہ کاری وقت کے ساتھ ساتھ بلوچ ثقافت کی ایک پہچان بھی بن گیا ہے تاہم جدت کے اس دور میں اس فن  کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وقت تو تبدیل ہو گیا لیکن کشیدہ کاری کے فن کو جدید تقاضوں سے اس طرح سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا جس کی ضرورت ہے۔

پسنی کی ایک خاتون ہاتھ سے کشیدہ کاری کرتے ہوئے لیکن اس جیسی اکثر خواتین کو ان کی محنت کا معاوضہ نہیں ملتا۔ فوٹو مائرہ بلوچ

ماضی کی طرح آج بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں خواتین اپنے ہاتھوں کی محنت سے  کپٹروں، چادروں وغیرہ  پر کڑھائی یعنی کشیدہ کاری کر کے خوبصورت بنا دیتی ہیں جو دیکھنے کے لائق بن جاتا ہے اور ہر کوئی انہیں پہننا پسند کرتا ہے۔

چادر پر بلوچی کڑھائی کی ایک جھلک۔ فوٹو کریڈیٹ :مائرہ بلوچ

عام طور پر خواتین گھر کے دیگر کاموں سے فارغ ہونے کے بعد کشیدہ کاری کرتی ہیں جس سے ایک تو مصروفیت ہو جاتی ہے تو دوسرا اس کے ساتھ اضافی آمدن کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

صوبے میں رہن سہن کے مختلف رسم و رواج کی وجہ سے کشیدہ کاری کے اس فن کو مختلف ناموں  سے جانا جاتا ہے جس میں عارف، چارد، انگورو، سبزو، چنکا، وتناب، گل  اور بنگلہ وغیرہ شامل ہیں۔

اس طرح کی بلوچی کشیدہ کاری کی مانگ بڑے شہروں میں بھی ہے ۔فوٹو:مائرہ بلوچ

کشیدہ کاری پر جتنی محنت اور خام مال لگا ہو تو اس کی بازار میں قیمت بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔ اس وقت سب سے مہنگی کشیدہ کاری گل اور بنگلہ پچاس ہزار سے ساٹھ ہزار کے درمیان دستیاب ہے جبکہ سب سے سستی کشیدہ کاری  جسے پیت و تاب کہا جاتا ہے دو ہزار روپے تک دستیاب ہے۔

بلوچی کشیدہ کاری کی مقامی سطح پر مانگ تو ہے ہی مگر بیرون ممالک سے  محدود پیمانے پر کشیدہ کاری کے آڈر مکران ڈویژن میں دیے جاتے ہیں۔

 تاہم اس فن کا صرف گھریلو سطح پر محدود رہنے سے خدشہ ہے کہ کہیں یہ وقت کے ساتھ ساتھ ماضی کا حصہ نہ بن جائے اس کے لیے ضرورت ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر صوبے میں کشدہ کاری کے مراکز قائم کریں جہاں پر خواتین کو ان کے کام کا بہتر معاوضہ مل سکے اور دوسرا فن کو عالمی سطح پر معتارف کر کے نہ صرف بلوچ ثقافت کو روشناس کرایا جائے بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو سکے۔

ایڈیٹنگ:محمد عظیم 

LEAVE A REPLY