عارف نور
پاک وائسز ، گوادر
نت نئے ڈیزائن کی بلوچی چپل کی وجہ سے نوجوانوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
بلوچی چپل دیکھتے ہی آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کوئی بھاری چپل ہو گی جسے پہن کر شاید آپ کسی مشکل میں پڑ جائیں۔ماہر کاریگر نے آپ کی آسانی کے لیے آج کل کے فیشن کے مطابق ہلکی بلوچی چپل متعارف کرا دی ہیں۔
کوئٹہ کی پرنس روڑ کی بلوچی چپل مارکیٹ مشہور طرح طرح کی بلوچی چپلوں کے لیے مشہور ہے۔ جدت لانے کے باوجود بلوچی چپل کی  بنیادی ساخت کو برقرار رکھا گیا ہے جس سے بلوچی چپل پہلے سے بھی زیادہ مقبول ہو گئی ہے۔ اب نہ صرف شلوار قمیض بلکہ جینز پر بھی نوجوان بلوچی چپل پہنے دکھائی دیتے ہیں۔
بلوچی چپل کے نام بھی مختلف قبائل کے ناموں سے منسوب کیے گئے ہیں ۔ بلوچی چپل کی دوکان کے مالک فیصل کریم بخش نے پاک وائسز کو بتایا کہ”بلوچی چپل کے مختلف ڈیزائن ہیں مگر مقبول ڈیزائنز میں سعادت، نوروزی، بالاچ ، مینگل اور شکاری اسٹائل بہت مشہور ہیں” جو لوگ شوق سے پہنتے ہیں۔
فیصل نے مزید بتایا کہ”ہم آردڑ پر بھی لوگوں کے من پسند اسٹائل اور مختلف رنگ کے چپل تیار کرتے ہیں۔”
بلوچی چپل مختلف مراحل سے گزر کر تیار ہوتی ہے جس میں مضبوط دھاگہ، مضبوط چمڑا، ٹائر وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے۔
فیصل کے بقول “چپل کا سول بنانے کے لیے ہم ٹائر کا استعمال کرتے ہیں۔ٹائر ترکی اور ایران سے درآمد کیا جاتا ہے جبکہ چمڑا لاہور سے آتا ہے۔”
 دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچی چپل کی مقبولیت صرف بلوچ قوم تک محدود نہیں ہے۔ فیصل کہتے ہیں کہ “آج کل مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بلوچی چپل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اس کو خود استعمال کرتے ہیں بلکہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بطور تحفہ بھی دیتے ہیں۔”
پائیدار بلوچی چپل کی قیمت کسی برینڈ کے جوتے سے کم نہیں۔ فیصل کے مطابق “بلوچی چپل کی قیمت ڈیزائن اور کوالٹی کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جو 1000 روپے سے لے کر 8000 روپے تک کی قیمت میں دستیاب ہوتے ہیں۔”
چپل کا ایک جوڑا دو سے تین روز میں تیار کیا جاتا ہے جس میں مشینری استعمال نہیں ہوتی بلکہ سب ماہر کاریگر کے ہاتھ
کا کمال ہوتا ہے۔
رائیٹر کے بارے میں: عارف نور پاک وائسز کے لیے گوادر سے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔ 
ایڈیٹنگ: حسن خان 

LEAVE A REPLY