دھرمیندرکماربالاچ

آج دریاۓ سندھ سکھر کے جزیر نمہ مندر سادھو بیلہ میں بابا بنکھنڈی مہاراج کا 154 میلا پرامن طریقے سے منایا گیا ہے۔جس میں ستان کے علاوہ انڈیا، اور نیپال سے ہزاروں کی تعداد میں ہندو یاتری شرکت کرہے ہیں۔ میلے کا آغاز ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا سے کیا گیا.

میلے آئے میں ہندوؤں یاتریوں نے پاک وائسزز سے بات کرتے ہو ئےکہا کہ ہم اپنے گھروں میں صبع وشام آرتی و بھگتی کرتے ہیں لیکن میلے میں شرکت کرنے سے ہمیں روحانی علم اور دلی سکوں ملتا ہے اور ایک دوسرے گلے مل کر سب دکھ درد ، تکلیفیں اور نفرتیں ختم ہو جاتی ہے۔اس سے مزہبی اور قومی یکجہدی اور بھائی چارہ کا درس ملتا ہے ۔اور کچھ یاتری اپنی منتیں اور مرادیں پوری کرنے کےلیے دور دراز علاقوں سے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرکے پہنچتے ہیں ۔

یاتریوں کےلیے لنگر کا اہتمام میٹھے پانی کے سٹال مریضوں کے لیے ڈیسپنسری کی سہولت 24 گھنٹے موجود ہوتی ہے ۔ میلے کے انتظامات متروقہ وقف املاک بورڈ پاکستان اور مقامی ہندو کمیونٹی ملکر سرانجام دیتے ہیں۔ میلے کے دوران کسی ناگہانی آفت یا ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ۔ سادھو بیلہ ہندوؤں کے لیے تیرتھ (حج) کا درجہ رکھتا ہے۔ پاکستان میں بسنے والی ہندو کمیونٹی کےلیے سب سے بڑا مندر ایک اعتبار سے مقدس جگہ ہے جہاں وہ اپنی مذہبی عبادات آزادی کے ساتھ ادا کرسکتےہیں۔

سادھو بیلہ مندر میں جانے کےلیے کشتی کی سواری کرنی پڑتی ہے جہاں ہر وقت ملہا اپنی کشتی کے ذریعے یاتریوں کا مندر تک پہنچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جن سے ان کے گھر کا گزر بسر ہوتا ہے ۔ آنےوالے یاتریوں سے خوب داد وصول کرتے ہیں سادھو بیلہ کامطلب ہے سنتوں کی جگہ(صوفیوں کی جگہ ) نیپال کے برہمن خاندان کے بھانچند شرما جن کو ان کے روحانی پیشوا نے ان کو بابا بنکھنڈی مہاراج کا خطاب دیا تھا 1823 ء میں بابا صاحب نیپال سے ہجرت کرکے سندھ کے اس جزیرے میں آباد ہوئے اور چالیس سال تک رزق کی دیوی ماتا انپرنا کی کڑی تپسیا کی ماتا نے خوش ہوکر دعا دی کے اس جزیرے پر خوراک اور پانی کی کھبی کمی نہیں ہوگی۔ اس دن سے اج تک اس مندر سے کوئی بھی بھوکا نہیں گیا ۔

مندر کے پوجاری نے بتایا کی سادھو بیلہ 9ایکڑ کے جزیرا پر پھیلا ہوا ہے جس میں بابا بنکھنڈی مہاراج کی سمادھی مندر کے علاوہ 10 کے قریب دیوی دیوتاؤں کے مندر ہے۔جن میں گنیش مندر، ہنومان مندر ،راماپیر مندر ، کرشن مندر، رام مندر، شیو مندر، ماتا انپرنا کا مندر شری چن مندر اور سکھوں مذہب کے پیروکار کے لے گرودوارہ بھی شامل ہے۔

بابا جی کے زمانےمیں یہاں پر 500سے1000 طالبعلم کو مذہبی پوجا پاٹ کے ساتھ ادب کی تعلیم ،خوراک،لباس اور رہائش کی مفت سہولت معیسر تھی ۔ میر سہراب خان نے اپنی دورے حکومت میں یہ جزیرا چاندی کے کاغذ پر لکھ کر بابا برکھنڈی مہاراج کے نام کر دیا تھا جس سے ہمیں مذہبی اہم آہنگی کا سبق ملتا ہے ۔

LEAVE A REPLY