Dherminder Kumar

آسو مائی کا تعلق سندھ کے متوسط گھرانے سے ہے لیکن جس طرح کا کام یہ اپنے علاقے میں کررہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی آسو مائی چلنے سے معذور ہے لیکن ذہنی معذور افراد کو معاشرے میں چلنے کے لائق بنایا رہی ہیں.جن مشکلات میں تعلیم حاصل کی ہے میں نہیں چاہتی کہ میری بہنیں اس دور سے گزر ان کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں ہمارے ہاں بعض دفعہ لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت تک نہیں دی جاتی کیونکہ وہ صرف گهر کے کام کاج کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں.

جہالت کے دور اور غیر سنجیدہ معاشرے میں رہنے کہ باوجود میرے والد نے مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول داخلہ کروایا ان کا ایک ہی خواب تھا وہ اپنی کمیونٹی کی لڑکیوں کو پڑھی لکھی دیکھنا چاہتے تھے میرے والد نے مجھے بتایا کہ ہر ایک ماں اور باپ کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی اولاد ڈاکٹر یا انجینئر بنے پرلیکن میرا خواب یہ کہ میں تمہیں ایک بہترین ٹیچر دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ قابل ٹیچر ہی تعلیم کے ذریعے پسماندہ طبقے کی ترقی اور انسانیت کی خدمت کرسکتا ہیں. 2010 جب میں میٹرک میں تھی تو میرے والد انتقال کرگئے اور اس کے بعد میرے بڑے بھائی نے آگے تعلیم جاری رکھنے میں میری قدم قدم پر مکمل مدد کی اور میں نے 2014 گریجویشن مکمل کی.

اس وقت مجھے کچھ مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ میرے گهر کے حالات ٹیهک نہیں تھے تو میں نے نوکری کے لئے مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کے پاس گئی اور ان سے نوکری کے لئے درخواست کی بدقسمتی سے انہوں نے نظر انداز کردیا اور مجھے سو روپے کا ایک نوٹ دیکر کہا تمہارے لیے کوئی جاب نہیں مجھے اس بات کا بہت دکھ ہوا میں اپنے گھر واپس آئی اورگاؤں کے بچوں اکٹها کیا اور کھلے آسمان میں پڑھانا شروع کردیا اس کے ساتھ میں نے چهونپڑی بنائی جہاں میں نے فیس کے بغیر “کونبهو مل کوہلی پرائمری سکول” کی بنیاد رکھی.

شوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میرے سکول کی خبریں گردش کرنے لگی تو مقامی حکومت اور سینیٹر اعجاز دهمرا،حنا دستگیر اور کچھ مقامی ایم این اے اور ایم پی اے نے میرے گاؤں مینا جی دهانی کا وزٹ کیا اور اعلان کیا کہ وہ اس گاؤں اور سکول کے لیے پینے کے لیے پانی صاف کا آراو پلانٹ،سلائی سنٹر،پختہ روڈ اور سکول کے لیے چھ کلاس روم بناکر دینے کا وعدہ کیا لیکن صرف دو کلاس روم ہی تعمیر کرکے دیے گئے اس کے ساتھ ایک کمیونٹی ہال اور روڈ بناکر کردی گئی شروع میں سکول میں پانچ بچے تھے اور اب 340 تعداد ہے آسو بائی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سکول کو اب دو کلاس روم،دوواش روم،ایک عدد سولر پینل اور کچھ فرنیچر کی اشد ضرورت ہے میری زندگی کا مقصد اس سکول کو کالج کا درجہ دلانا ہے کچھ عرصہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا تعاون حاصل رہا شروع میں 5000 ہزار تخوا تھی اب وہ بند ہوگئی ہے اب انہوں نے بهی ہاتھ اوٹها لیے ہیں اس گاؤں کے 300 گهر اور پانچ ہزار آبادی پر مشتمل ہے یہ گاؤں عمرکوٹ شہر سے 30 کلومیٹر دور ہے گاؤں سے گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن لڑکیوں کا کوئی سرکاری سکول نزدیک نہیں یہی میری زندگی کی کہانی ہے.

LEAVE A REPLY