جنوبی پنجاب کہہ لیں ، سرائیکی وسیب کہہ لیں کہ کچھ بھی کہہ لیں۔جب بھی اس علاقے کی پسماندگی و ترقی کی بات ہوتی ہے تو لوگ حق میں اور مخالفت میں اعداد و شمار کے ڈھیر لگا دیتے ہیں ، تاریخی نسخے کھول لیتے ہیں ، من پسند رہنماؤں کے من پسند بیانیہ اقتباسات سنانے لگتے ہیں ، منطق ، فلسفے ، ریاضی ، جغرافئے وغیرہ کے گھوڑے اپنی مرضی کے میدانوں میں دوڑانے لگتے ہیں۔اس عمل کے دوران منہ سے جھاگ بھی نکلتے ہیں تو کبھی طنزیہ مسکراہٹوں کے تبادلے سے آنکھیں بھی سکڑتی ہیں اور پھرتختِ لاہور اور مقامیوں کی روائیتی کاہلی کے طعنے گفتگو پر خاموشی کی تھکن زدہ چادر ڈال دیتے ہیں ۔غرض ترقی و پسماندگی کا عقدہ حل کرنے کے لئے ہر پتہ پھینکا جاتا ہے مگر عقدہ ہے کہ الجھتا چلا جاتا ہے۔

اس موضوع پر اتنی زہنی توانائی ضائع کرنے کی ضرورت کیوں ہے ؟ باآوازِ بلند بحث سے آپ سامنے والے کو زیادہ سے زیادہ چپ کراسکتے ہیں مگر قائل نہیں کرسکتے۔ حقیقت جاننے کے لئے لفظ سے زیادہ تصویر کارگر ہوتی ہے۔اور روزمرہ زندگی ہی سب سے بڑی تصویر ہے۔wusat

جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور ترقی بھی کھلی تصویر ہے۔کیا اس تصویر میں موجود چہرے اندرون و بیرون بتانے کے لئے کافی نہیں ؟

اٹک تا رحیم یار خان سفر کرنا شروع کریں تو آپ کو تین بدلتے مناظر دکھائی دیں گے ، نیم ترقی یافتہ ، ترقی یافتہ اور پسماندہ ۔۔۔نیم ترقی یافتہ کو امید ہے کہ ایک دن وہ بھی ترقی یافتہ ہو جائے گا لہذا ان علاقوں سے تلاشِ معاش میں ہجرت تو ہوتی ہے مگر وبائی انداز میں نہیں ۔اسی طرح ترقی یافتہ علاقوں کے لوگ اگر ہجرت کرتے بھی ہیں تو کسی مجبوری سے زیادہ اپنی مرضی سے ۔مگر پسماندہ علاقوں کے لوگ مجبوری میں ہی نقل مکانی کرتے ہیں۔

اس اعتبار سے آپ دیکھیں تو نیم ترقی یافتہ شمالی پنجاب کے زیادہ تر ہجرتیوں کی پہنچ سویلین و عسکری و نیم عسکری نوکریوں یا خلیجی ریاستوں تک ہے۔ترقی یافتہ وسطی پنجاب میں شمالی پنجاب کی نسبت بہتر خواندگی سے مسلح نوجوان چھوٹا موٹا کاروبار جمانے ، سرمایہ کاری یا پھر مغربی دنیا (امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، اسپین ) تک پہنچنے کا خواب دیکھتا ہے۔جبکہ ملتان سے راجن پور تک بسے ہوئے زراعتی و چراگاہی طبقات سب سے پہلے کراچی کے بارے میں سوچتے ہیں اور یہ مبنی بر ضرورت سوچ کراچی کے دگرگوں حالات سے جڑے خدشات پر بھی غالب آجاتی ہے ۔

ثبوت یہ ہے کہ کراچی میں اس وقت جتنے بھی پیلے رکشے اور چنجیاں چل رہی ہیں  ان کے اسی فیصد چالکوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔جتنے بھی تعمیراتی مزدور اور مستری ہیں ان میں سے آدھے یا ( دیر ،سوات ، فاٹا ، کوہستان وغیرہ )  پشتون ہیں یا ملتان سے راجن پور تک کے خطےسے ان کا تعلق ہے۔کراچی کی سینکڑوں نجی سیکورٹی کمپنیوں میں پانچ تا دس ہزار روپے کی جتنی بھی باوردی چوکیدار نوکریاں ہیں ان پر متعین ستر فیصد نوجوان جنوبی پنجاب سے ہیں۔رہے عام چوکیدار ، نانبائی ، پلمبر ، شوفر ، سبزی و پھل فروش وغیرہ۔ تو اب سے دس برس پہلے تک ان شعبوں پر پشتون اور ہزارہ وال محنت کشوں کی اجارہ داری تھی۔لیکن اکثر پشتون اور ہزارہ وال چونکہ برسوں سے کراچی میں بسے ہوئے تھے لہذا وہ یا ان کی اگلی نسل روزگار کے اعتبار سے رفتہ رفتہ اپ گریڈ ہوتی چلی گئی۔چنانچہ نچلی سطح کے روزگار میں پیدا ہونے والا یہ خلا بے روزگار جنوبی پنجابیوں ( زیادہ تر سرائیکی )  نے پر کیا ۔

کراچی میں گھریلو کام کاج کرنے والی جتنی بھی خواتین ( مقامی زبان میں ماسیاں ) ہیں۔ان میں سے اسی فیصد جنوبی پنجاب کے دیہی علاقے سے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں چند برس پہلے تک اونٹ دوڑ میں استعمال ہونے والے جتنے بچے جاتے تھے وہ سب کے سب جنوبی پنجاب ( بالخصوص رحیم یار خان )  کے دیہی علاقے سے تھے۔

پاکستان میں فرقے ، جہاد اور مذہبی شدت پسندی کے تعلق سے جو بھی تنظیمیں متحرک ہیں ان میں قیادت کو چھوڑ کے زیادہ تر فٹ سولجرز یا تو فاٹا یا پھر جنوبی پنجاب (بہاول پور ، رحیم یارخان ، بہاول نگر ، کوہِ سلیمان کی پٹی )  سے ہیں۔

یہ بات اس لئے سمجھ میں آتی ہے کہ گذشتہ تیس برس میں عمومی ترقی کے اعتبار سے پنجاب کے چھتیس میں سے ٹاپ ٹین اضلاع پر نگاہ ڈالیں تو اس فہرست میں زیادہ تر اضلاع وسطی اور پھر شمالی پنجاب سے ہیں۔جنوبی پنجاب سے صرف ملتان کا ضلع ہی ٹاپ ٹین میں شامل ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نقلِ مکانی کی بنیادی عالمی وجہ زندگی کی تنگی  کہی جاتی ہے۔جو جتنا مالی پریشان ہے وہ اپنی زندگی بدلنے کے لئے پہلی سیڑھی قریب ترین بہتر علاقے کو ہی بناتا ہے اور اس کے بعد آگے کے بارے میں سوچتا ہے۔

سن ساٹھ کے عشرے میں جو سوچ کر پاکستان کے بالائی علاقوں کا محنت کش کراچی کی جانب آرہا تھا ۔انہی حالات اور سوچ سے دو ہزار پندرہ کا جنوبی پنجابی گذر رہا ہے۔یہ سفر آگے کا ہے کہ پیچھے کا ؟ میں نہیں جانتا ۔پر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ گیت اس شاعر نے لکھا تھا جس نے اپنی زمین چھوڑنے  کے بارے میں شائد سوچا بھی نہ ہو  مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ مجبوری میں زمین چھوڑنے والے اسی کے ہم وطنوں کے لئے یہ گیت معنی سمیت بدل جائے گا ۔

اپنا گراں ہووے ، توتاں دی چھاں ہووے

بانے دی منجی ہووے ، سر تلے بانہاں ہووے

LEAVE A REPLY