گوادر کا ایک منظر
گوادر کا ایک منظر

ایسا کیوں ہے کہ نیدر لینڈز  کو قدرت نے چار سو اکیاون کلومیٹر ساحل دے رکھا ہے مگر اس کا شمار دنیا کے دس بڑے فش ایکسپورٹرز میں ہوتا ہے اور نیدر لینڈز اس مد میں سالانہ ساڑھے تین ارب ڈالر کماتا ہے۔اور ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کو قدرت نے ایک ہزار چونسٹھ کلومیٹر ساحل سے نوازا ہے لیکن اس کا شمار دس چھوڑ پینتیس بڑے عالمی فش ایکسپورٹرز میں بھی نہیں ہوتا اور اس شعبے سے بس اوسطاً پینتیس کروڑ ڈالر سالانہ کماتا ہے۔

اور پھر ایسا کیوں ہے کہ پاکستان ہزار کلومیٹر ساحل رکھنے  کے باوجود اگر سو مچھلیاں پکڑتا ہے تو ان میں سے پینسٹھ دریائی یا تالابی اور پینتیس مچھلیاں سمندری ہوتی ہیں۔اور ایسا کیوں ہے کہ ہزار کلومیٹر ساحل میں اگرچہ بلوچستان کا حصہ سات سو اور سندھ کا تین سو کلومیٹر ہے مگر سندھ کی چھ ہزار ماہی گیر کشتیاں سمندری مچھلی کی ستر فیصد پیداوار لے جاتی ہیں جبکہ بلوچستان میں رجسٹرڈ نو ہزار ماہی گیر کشتیوں کے ہاتھ صرف تیس فیصد مچھلیاں آتی ہیں جبکہ بلوچستان کے سمندری مچھیروں کی تعداد اٹھاون ہزار اور سندھ کے مچھیروں کی تعداد پینتیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

اور ایسا کیوں ہے کہ بلوچستان کی کشتیاں بس اسی قابل ہیں کہ وہ چھ تا آٹھ ناٹیکل میل تک جا کے تیس تا پینتیس میٹر گہرائی میں ماہی گیری کرسکیں۔ اس کے برعکس بلوچستان کی سمندری حدود سے تھوڑا باہر لنگر انداز غیر ملکی فشنگ ٹرالرز اپنے کئی کلو میٹر پھیلے جالوں میں ٹونا سمیت ہر طرح  کا زندہ بحری خزانہ لوٹ کے لے جائیں اور اپنے پیچھے ٹنوں کے حساب سے مردہ سمندری مخلوق بھی چھوڑ جائیں ۔

کہنے کو بلوچستان کے ساحل پر جیونی سے گڈانی تک آٹھ فش ہاربرز ہیں۔یہاں کے ساحل پر اڑتیس اقسام کی مچھلی پائی جاتی ہے۔سالانہ ایک لاکھ چالیس ہزار میٹرک ٹن سے زائد مچھلی ، جھینگے ، لابسٹر اور کیکڑے پکڑے جاتے ہیں۔ان میں سے صرف آٹھ فیصد پیداوار مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں باقی اندرونِ و بیرونِ ملک ایکسپورٹ ہوجاتی ہے ۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے ؟

مسئلہ یہ ہے کہ اگر سب کچھ ایسا ہوجائے جیسا ہونا چاہئیے تو صرف مچھلی ہی بلوچستان کا معاشی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے کافی ہے۔مگر اس کے لئے انفراسٹرکچر چاہئیے۔پیسہ لگاؤ گے تو پیسہ آئےگا۔

کیا کیا جائے ؟

سب سے پہلے تو زیرو پوائنٹ سے جیونی تک کے ہزار کلومیٹر ساحل پر نام نہاد آسیبی فشریز ٹریننگ سنٹرز کے کچے پکے کاغذی منصوبوں کے بجائے ماڈرن فشریز سکول ، کالجز اور فشریز یونیورسٹیز چاہئیں ( جاپان ، روس اور جنوبی کوریا نے ساٹھ برس پہلے ایسے ہی سفر شروع کیا تھا اور وہ بہت خوشی سے مدد کرنے کو بھی تیار ہوں گے ) ۔ان اداروں میں فشریز کے مختلف شعبوں کے لئے سالانہ تین سو سے پانچ سو ٹکنیکل ماہرین ، ناخدا اور مچھیرے پیدا ہوسکیں گے اور یہی لوگ انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے۔

لکڑی کی ماہی کشتیوں کی جگہ فائبر گلاس کی کشتیاں چاہئیں تاکہ ڈیزل کم خرچ ہو ، صفائی آسانی سے ہوسکے اور سمندری کیچ  آلودگی سے بچا کر ایکسپورٹ کے قابل رکھا جاسکے۔وائرلیس ریڈیو ، لائف جیکٹیں اور آئس بکس چاہئیں ۔ جدید جیٹیاں چاہئیں جو پسنی فش ہاربر کی طرح بیس سال میں ہی ناکارہ نہ ہوجائیں ۔کشتیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی ورکشاپیں چاہئیں۔جال ساز مشینیں ، آئس پلانٹ ، جھینگوں کی چھلائی اور پیکیجنگ  کی فیکٹریاں اور نیلامی و فش گریڈنگ کے لئے جدید ہال اور آلات چاہئیں۔ساحل ِ مکران سے کراچی تک مچھلی ، مچھیروں اور خریداروں کے لئے فیری سروس چاہئیے۔گوادر ڈیپ سی پورٹ سے بلوچستان کی سمندری پیداوار بین الاقوامی معیار کی پیکیجنگ میں براہِ راست ایکسپورٹ کرنے کے لئے بسمہ اللہ چاہئے۔اور اس پورے انفراسٹرکچر کو زندہ رکھنے کے لئے مقامی یا ایرانی بجلی اور اس انفراسٹرکچر کے چلانے والوں کو رہائشی کالونیاں بھی چاہئیں ۔

صوبائی حکومت کو ادھر ادھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ترجیحی طور پر ایک ایسا جدید ٹرالر فلِیٹ بنانے پر بھی غور فرمانا چاہئیے  جو اپنے ہی گہرے پانیوں میں ماہی گیری کرسکے۔اس فلیٹ کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت ان تعلیمی و تربیتی اداروں سے آئے گی جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ۔جب تک ایک مقامی فلیٹ نہیں تشکیل پاتا تب تک آپ کا سمندر دوسرے خالی کرتے رہیں گے اور آپ صرف سر پکڑ ے روتے رہیں گے۔بےشک اس فلیٹ کی تشکیل اور دیکھ بھال کے لئے سرمایہ چاہئیے ۔ڈھنگ کی فیزبلٹی رپورٹ اور پروفیشنل پریزنٹیشن سرمایہ کھینچنے کے لئے سب سے ضروری عنصر ہے ۔( ہر فارن ڈونر انکار نہیں کرسکتا ۔اسے بھی کسی نہ کسی کو تو پیسہ دے کر اوپر والوں کو اپنی کارکردگی دکھا کے شاباش لینی ہوتی ہے نا ) ۔

 ابتدائی سخت محنت کے بعد جوں جوں کام بڑھے گا توں توں سرکار کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے لئے بہت زیادہ بھاگم دوڑ کی ضرورت نہیں ہوگی ۔بلکہ کچھ عرصے بعد پرائیویٹ سیکٹر کو آپ کی منت سماجت کی ضرورت پڑےگی۔تو یہ ہے نسخہ اپنی دولت اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے کام لانے کا۔۔کیا یہ کوئی راکٹ سائنس ہے ؟

یہ وہ سمندر ہے جسے آپ تمیز سے استعمال کریں تو ہر سال دو ارب ڈالر سے زائد کما کے دے سکتا ہے۔اتنی رقم یہی سمندر آج بھی کما رہا ہے مگر غیروں کے لئے۔وہ آپ کے ملک میں داخل ہوئے بغیر یہ ڈالر جال میں بھر کے لے جا رہے ہیں۔

ساڑھے تئیس سو برس پہلے جب سکندر اعظم  مکران کے راستے تھکا ہارا واپس جا رہا تھا تو لشکر میں شامل مورخ آریوس نے روزنامچے میں لکھا کہ ہم گوادر سے گذرے۔یہاں کے ماہی گیر خوشحال ہیں۔ستہرویں صدی میں سونمیانی ( سنہری زمین ) سری لنکا سے بندر عباس تک کی ساحلی پٹی کا سب سے مصروف ماہی بندر تھا ۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں پرتگیزی لٹیروں نے ایسا تباہ کیا کہ آج تک نہ اٹھ سکا۔

لیکن اب تو پرتگیزیوں کو بھی رخصت ہوئے تین سو برس سے اوپر ہو چلے۔اب تو اٹھ جاؤ۔۔۔

LEAVE A REPLY