ولید خان
پریتم داس بالاچ چولستان کی ہندو کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے فیلڈ میں کام کرتے ہوئے۔
جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں قابل ذکر تعداد میں ہندو برادری آباد ہے لیکن انہیں مین اسٹریم میڈیا سے گلہ ہےکہ وہ ان کے ایشوز اور ثقافت پر بہت کم بات کرتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اقلیتوں کی مقامی یا قومی میڈیا میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر کوئی اقلیتی صحافی مل بھی جائے تو اسے اپنی کمیونٹی کے ایشوز اٹھانے کا موقع نہیں فراہم کیا جاتا۔ ہندو برادری کے ایک ایسے ہی سینئر صحافی پریتم داس بالاچ سے پاک وائسز نے اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔
بالاچ صحافت کے پیشے سے گزشتہ 20 برس سے وابستہ ہیں۔ اس دوران انہوں نے طور سینا سمیت کئی مقامی اخبارات کے لیے کام کیا لیکن ایکسپریس اخبار سمیت مین اسٹریم میڈیا کے لیے 2005 سے کام کر رہے ہیں۔
“بہت سی خبریں ایسی ہوتی ہیں مثلا جیسے کوئی مندر گر گیا یا ایسی دیگر خبروں کو شائع نہیں کیا جاتا۔ صحافی تو خبر بھیج دیتا ہے مگر انہیں دبا دیا جاتا ہے۔”
“بعض میڈیا والوں کا خیال ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو میڈیا میں زیادہ ہوا دینے سے فسادات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔”
بالاچ سمیت کئی صحافی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اقلیتوں کے مسائل کو میڈیا میں اجاگر کرنے کا مقصد ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی طرف توجہ دلانا ہے۔
 اقلیتوں کے مسائل پر رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے اسلام آباد کے صحافی سبوخ سید کا کہنا ہے:
 “میں جب اقلیتوں کے حساس ایشوز پر رپورٹنگ کرتا ہوں تو اس پر اکثر لوگوں کا رد عمل غیر مناسب ہوتا ہے ۔ وہ ایشوز کو انڈیا اور امریکا کے ساتھ منسلک کر کے پڑھتے ہیں ۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ تم امریکی مظالم یا بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم ہوتا ہے، اس پر کیوں نہیں لکھتے ۔اکثر لوگ سوچے سمجھے بغیر ہی مغربی ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام بھی عائد کر دیتے ہیں ہے۔”
“قومی میڈیا میں بھی صرف انہی خبروں کو اہمیت ملتی ہے جنہیں بین الاقوامی میڈیا اٹھا لے، اقلیتوں کے ایشوز پر دلچسپی کم ہونے کے باعث بہت سی اہم خبریں نشر نہیں  ہو سکیں۔”
 انہوں نے مزید کہا کہا اقلیتوں سے متعلق میڈیا میں استعمال کیے جانے والے بہت سے الفاظ کا چناؤ بھی مناسب نہیں ہے۔”غیر
مسلم کمیونٹیز کی قومی میڈیا میں نمائندگی نہ ہونے کے باعث خبروں میں نامناسب یا امتیازی الفاظ کا استعمال عام ہے۔”
پریتم داس بالاچ چولستان کی ہندو کمیونٹی کے بارے میں اسٹوری کرتے ہوئے۔
 ایک دہائی سےزیادہ مین اسٹریم میڈیا میں اقلیتوں کے مسائل پر رپورٹنگ کرنے کے بعد سبوخ سید اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک  صحافیوں کو اقلیتی و مذہبی امور سے متعلق خصوصی رپورٹنگ کی تربیت نہیں دی جائے گی میڈیا روایتی رپورٹنگ کرتا رہے گا۔
“صحافی غیر دانستہ طور پر ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی اقلیتوں کے ایشوز پر سنجیدہ رپورٹنگ کی ہی نہیں۔”
 ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صحافی غیر مسلم پاکستانیوں کے حقوق اور مسائل کے حوالے  سے سنجیدگی کے ساتھ کام کرے تو اول اسے اس مذہب کے ساتھ منسلک کر کے ہدف بنایا جاتا ہے ۔
کسی سفارت خانے سے کوئی دعوت آ جائے تو بعض اوقات یہ “جرم” کا ثبوت بن جاتا ہے اور گفتگو یہاں سے شروع  ہو کر یہاں دم لیتی ہے کہ “ان جیسے لوگ ہی ملک سے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قانون ختم کرانے کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں”. یوں اقلیتوں کے حقوق کیلئے ہلکی سی ہمدردی بھی اگلے لمحے آپ کو معاشرے میں بطور ایجنٹ متعارف کروا سکتی ہے ۔”
بالاچ اس حد تک تو خوش قسمت ٹہرے کہ وہ ایکسپریس جیسے بڑے قومی اخبار کے چولستان میں نمائندہ بن گئے لیکن انہیں اس سے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں مل سکے۔ “کچھ لوگ اقلیت کے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے کیونکہ وہ اقلیتوں کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں۔ “
انہوں نے پاکستانی میڈیا اور صحافتی برادری کے لیے ایک سوال پر اپنی گفت گو پاک وائسز سے ختم کی: “کیا پاکستانی میڈیا ہندو کو بطور اینکر پرسن برداشت یا قبول کر سکتا ہے؟”
 رائیٹر کے بارے میں: ولید خان پاک وائسز کے ساتھ بطور سٹیزن جرنلسٹ رحیم یار خان سے کام کررہے ہیں۔  
ایڈیٹنگ:حسن خان 

LEAVE A REPLY