پاک وائسز سٹیزن جرنلسٹ

دالبندین

دالبندین شہر میں انٹرنیٹ سروسز گزشتہ 6 ماہ سے معطل ہیں اور تاحال بحالی کے امکانات نظر نہیں آرہے جس وجہ سے عوامی حلقوں بالخصوص انٹرنیٹ صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔انٹرنیٹ  معطلی نے نہ صرف لوگوں کی زندگی بلکہ کاروبار کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔رواں سال فروری میں دالبندین شہر میں موبائل ڈیٹا سروسز اور دیگر انٹرنیٹ سروسز کو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔

انٹرنیٹ سروسز کی اس معطلی کے متعلق شہریوں کو کوئی وجہ نہیں بتائی گئی نہ ہی بندش کے دورانیے کے متعلق مطلع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف افواہیں بھی زیر گردش ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش نے دالبندین کے شہریوں کے روزمره امور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پاکستان میں کسی مخصوص علاقے میں انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم بائیٹس فار آل، پاکستان نے ایک ریسرچ کرائی ہے جس میں پاکستان میں نیٹ ورک کی عدم دستیابی اور لوگوں کی روزمرہ زندگیوں پر اسکے اثرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ریسرچ کے مطابق اس نوعیت کی عدم دستیابی یا معطلی نے آزادی اظہار اور آزادی یکجہتی سمیت بہت سےاقتصادی و معاشرتی حقوق پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

دالبندین میں موبائل ڈیٹا سروسز اور دیگر پورٹیبل ڈیوائسز کی معطلی کے باعث تمام تر لوڈ  ڈی ایس ایل انٹرنیٹ پر ہے جو کہ اوور لوڈنگ کے باعث انتہائی سست رفتار مہیا کر رہا ہے۔

دالبندین شہر کے گردونواح سمیت پاک ایران اور پاک افغان بارڈر کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز دستیاب ہیں لیکن صرف دالبندین میں معطلی نے شہریوں کے ذہنوں میں متعدد سوالات کو جنم دے دیا ہے جن کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔
شہریوں نے وزارت داخلہ ، آئی جی ایف سی اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت تمام سکیورٹی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ دالبندین شہر میں انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروسز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

LEAVE A REPLY